Friday, 11 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*









وراٹ کوہلی بیچ میدان پر پھر ہوئے آگ ببولہ، ہار کے بعد کپتان کو سنائی کھری کھوٹی، ویڈیو وائرل
نئی دہلی : میدان میں گرما گرمی ہوتی رہتی ہے، کپتان کے ساتھ اتفاق اور اختلاف کا دور دورہ بھی عام ہے، لیکن ایسا کم ہی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ جب کپتان سے اختلاف کریں تو باؤنڈری لائن پر جا کر اپنے اختلاف کا اظہار کریں۔ اب جب بھی وراٹ میدان میں آتے ہیں تو گویا کیمرے کی ڈیوٹی ان کو فالو کرنے کے لئے لگادی جاتی ہے، تو کوہلی کیسے بچ سکتے تھے۔

آئی پی ایل کے 18 ویں سیزن میں آر سی بی کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر دوسری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دہلی کیپٹلز نے رائل چیلنجرز بنگلورو کو 6 وکٹوں سے شکست دی۔ بنگلورو 164 رنز کے ہدف کے دفاع کے لیے میدان میں اتری اور جواب میں ان کی شروعات بھی اچھی رہی کیونکہ 30 کے اسکور پر دہلی کی 3 وکٹیں گر چکی تھیں۔ لیکن کے ایل راہل کی 93 رنز کی ناقابل شکست اننگز آر سی بی ٹیم کو بھاری پڑ گئی ۔ اس شکست کے بعد ایک ویڈیو سامنے آیا ہے جس میں وراٹ کوہلی دنیش کارتک سے غصے میں بات کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔یہ واقعہ بنگلورو گراؤنڈ پر دہلی کیپٹلز کی اننگز کے 16ویں اوور میں پیش آیا جب کے ایل راہل نے جارحانہ انداز میں شاٹس مارنا شروع کیا تو وراٹ کوہلی کو آر سی بی کے بیٹنگ کوچ دنیش کارتک سے غصے میں بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس ویڈیو نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے کہ کوہلی بنگلور کے کپتان رجت پاٹیدار سے خوش نہیں ہیں۔

ہندی کمنٹری کے دوران سابق بھارتی کرکٹرز آکاش چوپڑا اور وریندر سہواگ نے کہا کہ اگر وراٹ کسی فیصلے سے ناخوش ہیں تو انہیں اس بارے میں کپتان پاٹیدار سے بات کرنی چاہئے۔ وراٹ کوہلی نے میدان میں لیے گئے کچھ فیصلوں کی وجہ سے نہ صرف دنیش کارتک بلکہ بھونیشور کمار سے بھی بات کی تھی۔ یہاں تک کہ وراٹ دوسرے اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ کے دوران ٹیم کے ساتھ نظر نہیں آئے ۔









تمل ناڈو میں آنے والا ہے سیاسی طوفان، ساتھ آئے AIDMK اور BJP، اتحاد کا اعلان
چنئی: اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی اور دیگر حلیف مل کر تمل ناڈو اسمبلی انتخابات لڑیں گے۔ اس اتحاد کا اعلان آج کیا گیا ۔ اس اتحاد کا اعلان آج چنئی میں ایک پریس کانفرنس میں کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یہ الیکشن قومی سطح پر نریندر مودی کی قیادت میں اور ریاستی سطح پر ایڈاپاڈی کی قیادت میں لڑا جائے گا۔

امت شاہ نے مزید کہا کہ اے آئی ڈی ایم کے این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے، مودی جی اور جے للیتا نے مل کر کام کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ تمل ناڈو میں ایک بار پھر این ڈی اے کی حکومت بنے گی۔ ہم ای پی ایس کی قیادت میں تمل ناڈو میں انتخابات لڑیں گے۔ اس اتحاد کی قیادت ایڈاپاڈی پلانی سوامی کر رہے ہیں۔ میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کروں گا۔ AIADMK اور BJP اتحاد فطری ہے۔ سیٹوں کی تعداد پر بعد میں بات کی جائے گی۔ یہ اتحاد دونوں جماعتوں کے لئے فائدہ مند ہے۔امت شاہ نے مزید کہا کہ ہم مل کر حکومت بنائیں گے اور ایڈاپاڈی کی قیادت میں الیکشن لڑیں گے۔ جیتنے کے بعد بی جے پی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کرے گی۔ اے آئی اے ڈی ایم کے کا کوئی مطالبہ نہیں ہے۔نیوز 18 انڈیا کے سوال پر وزیر داخلہ امت شاہ نے جواب دیا کہ وزیروں کی تعداد اور سیٹوں کا فیصلہ صحیح وقت پر کیا جائے گا۔ ڈی ایم کے سناتن اور زبان کا معاملہ اٹھا رہی ہے اور وہ دھیان بھٹکانے کیلئے کررہی ہے ۔








تہورا رانا کو ہندوستان میں لانے کے بعد اب کیا کیا ہوگا، کب عدالت میں شروع ہوگا کیس؟ جانئے
نئی دہلی : تہور حسین رانا کو حوالگی پر ہندوستان لایا جاچکا ہے ۔ ہندوستان پہنچنے کے بعد اس کو باقاعدہ گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد پوچھ گچھ کا عمل شروع ہوگا۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس معاملے میں کیا طریقہ کار ہوگا۔ رانا کا کیس سماعت کے لیے عدالت کب پہنچے گا؟ کیا اسے وکیل ملے گا؟ اگر کوئی ہندوستانی وکیل اس کا مقدمہ نہیں لڑنا چاہے گا تو پھر کیا ہوگا؟

امریکہ سے این آئی اے ایک خصوصی طیارے میں تہور رانا کو امریکہ سے ہندوستان لے کر آئی ۔ سخت حفاظتی انتظامات کے دوران تہور رانا کو لے کر آنے والا جہاز دہلی کے پالم ہوائی اڈے پر اترا، جسے ملک کا سب سے محفوظ ہوائی اڈہ مانا جاتا ہے۔

پہلے گرفتاری
رانا کو دہلی پہنچنے پر قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ذریعہ باضابطہ طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کا طبی معائنہ کروایا جائے گا ۔ وہ اس وقت حراست میں ہے۔

عدالت میں پیشی
گرفتاری کے بعد رانا کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ورچوئل پیشی کا امکان ہے۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو اسے خصوصی جج کی رہائش گاہ پر جسمانی طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

ریمانڈ کب اور کیسے؟
عدالت میں پیشی کے دوران این آئی اے رانا کی تحویل طلب کرے گی تاکہ اسے پولیس کی حراست میں رکھا جاسکے اور مزید تفتیش کی جاسکے۔ جس کے ذریعے این آئی اے فائنل یا اپ ڈیٹ شدہ چارج شیٹ داخل کرے گی۔

کیس کی سماعت
اس کے بعد دہلی کی خصوصی این آئی اے عدالت میں کیس کی سماعت ہوگی۔ فروری 2024 میں، پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ممبئی حملوں سے متعلق مقدمے کے ریکارڈ کو دہلی منتقل کرنے کا حکم دیا تھا، جس سے یہ طے ہوگئی تھی رانا کے خلاف کارروائی دہلی میں ہی ہوگی۔ اس کو تہاڑ میں ہی رکھا جائے گا۔ اب وہ ممبئی جیل میں نہیں رہے گا ۔

سیکورٹی کا انتظام
رانا کو تہاڑ جیل میں رکھا جائے گا، جہاں اس کی سیکورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کو خصوصی قیدی کا درجہ ملے گا۔ جس کی وجہ سے اس کو مکمل طور پر الگ اور محفوظ سیل میں رکھا جائے گا۔
کیا وکیل ملے گا؟
جی ہاں، اگر تہور رانا کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنا چاہے گا تو وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے، لیکن اگر کوئی وکیل اس کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے تو عدالت خود اسے وکیل فراہم کرے گی۔ ہندوستان کا آئین ہر ملزم کو قانونی نمائندگی کا حق فراہم کرتا ہے، جیسا کہ آرٹیکل 22(1) میں مذکور ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو وکیل کے بغیر حراست میں نہیں رکھا جائے گا۔اس کیس میں سرکاری وکیل کون؟
مرکزی حکومت نے پہلے ہی نریندر مان کو اس کیس کے لیے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری 9 اپریل 2025 کو مرکزی وزارت داخلہ کے ایک نوٹیفکیشن کے تحت کی گئی تھی، جو تین سال کے لیے یا کیس کی سماعت مکمل ہونے تک ویلڈ ہے۔ نریندر مان این آئی اے کی جانب سے تہور رانا اور ڈیوڈ ہیڈلی کے خلاف مقدمہ لڑیں گے

*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...