Friday, 11 April 2025

*🔴سیف نیوز اردو*








زیادہ اڑوگے تو نیوکلیئر... امریکہ کے ساتھ میٹنگ سے پہلے ایران نے دی دھمکی، ٹرمپ کو کرارا جواب
تہران: ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ‘بیرونی دباؤ’ بڑھتا ہے تو وہ اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے معائنہ کاروں کو ملک سے نکال سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے یہ انتباہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے کہ ہفتے کے روز عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوں گے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ تصور کیے جاتے ہیں۔ اس سال فروری میں ہی ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ دوبارہ ایران پر ‘زیادہ سے زیادہ دباؤ’ کی پالیسی پر عمل درآمد کریں گے۔
بدھ کے روز ٹرمپ نے ایران کو ایک بڑی وارننگ بھی دی تھی۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹ کوف کے درمیان بات چیت بے نتیجہ رہی تو ایران کے خلاف فوجی کارروائی بھی مکمل طور پر ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں اسرائیل اس کارروائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ایران طویل عرصے سے کہہ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا نہیں چاہتا۔ لیکن جمعرات کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے کہا کہ اگر بیرونی خطرات بڑھتے ہیں تو ایران اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ملک بدر کر سکتا ہے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون بند کر سکتا ہے۔امریکہ نے کیا کہا؟
ایران بھی ٹرمپ کی جانب سے حملے کے خطرے سے پریشان ہے۔ شمخانی نے کہا کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ یہ سراسر غلط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایران پرامن ایٹمی پروگرام کا دعویٰ کرتا ہے۔ دوسری جانب وہ انسپکٹرز کو ہٹانے کی دھمکی دیتا ہے جو کہ ایک خطرناک قدم ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمان میں ہونے والی ملاقات کا مقصد یہ سمجھنا ہے کہ ایران اس معاملے پر کتنا سنجیدہ ہے۔ یہ کوئی معاہدہ نہیں بلکہ ابتدائی بحث ہوگی۔ایران چاہتا ہے جوہری معاہدہ
دریں اثناء خبریں آئی ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران اس تجویز پر غور کر رہا ہے کہ جامع معاہدے پر بات چیت سے پہلے دونوں ممالک عبوری جوہری معاہدے پر کام کریں۔ ایکسیوس نے ایک یورپی سفارت کار کے حوالے سے اس سے متعلق ایک رپورٹ دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے دو ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے۔ اگر سفارت کاری کام نہیں کرتی تو مشرق وسطیٰ میں فوجی دستے بڑھانے کے احکامات دئیے گئے ہیں۔










سعودی عرب جانے والے ہندوستانیوں کا بڑا جھٹکا، ہندوستان سمیت 14 ممالک کے ویزا پر روک، جانئے کیوں اٹھایا گیا یہ قدم
ریاض: سعودی عرب جانے والے ہندوستانیوں کے لئے بری خبر ہے۔ سعودی عرب نے اگلے حج سیزن سے پہلے 14 ممالک کے شہریوں کے عمرہ، کاروباری اور فیملی ویزوں پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ پابندیوں کی فہرست میں نہ صرف ہندوسان بلکہ کل 14 ممالک کے نام ہیں۔ پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ پابندیاں جون کے وسط تک لاگو ہوں گی۔ متاثرہ ممالک میں ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، عراق، نائیجیریا، اردن، الجیریا، سوڈان، ایتھوپیا، تیونس اور یمن شامل ہیں۔ حالانکہ جن کے پاس ابھی عمرہ کا ویزا ہے ، وہ 13 اپریل تک سعودی عرب میں رہ سکتے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے ایسا کیوں کیا؟

سعودی عرب کے حکام اس کے پیچھے دو اہم وجوہات بتاتے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ غیر مجاز لوگ حج میں شامل نہ ہوسکیں ، کیونکہ بہت سے لوگ ملٹی پل انٹری ویزے پر ملک میں آتے ہیں اور حج کے دوران غیر قانونی طور پر اس میں شامل ہوجاتے تھے اور اس کی وجہ سے بھیڑ اور سیکورٹی کے خطرات بڑھ جاتے تھے ۔ دوسری وجہ غیر قانونی ملازمت ہے۔ دراصل لوگ بزنس اور فیملی ویزوں کے ذریعہ سعودی عرب میں پہنچتے ہیں اور اجازت کے بغیر کام کرنے لگ جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے لیبر مارکیٹ میں مسائل بڑھ جاتے ہیں۔سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ عارضی پابندی حج کے دوران سفری قوانین کو بہتر بنانے اور عازمین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے لگائی گئی ہے‘‘۔ وزارت نے اپیل کی ہے کہ جن ممالک کے لیے عارضی ویزوں پر پابندی عائد کی گئی ہے وہاں کے مسافر قوانین پر سختی سے عمل کریں۔ اطلاعات کے مطابق اگر مسافر غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں قیام کرتے ہیں تو انہیں پانچ سال تک سعودی عرب میں داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ویزے کا اجرا کب شروع ہوگا؟
عازمین حج کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے عازمین کی سہولت کے لیے 16 زبانوں میں ڈیجیٹل گائیڈ جاری کی ہے۔ اس میں اردو، انگریزی، عربی اور فرانسیسی جیسی زبانیں ہیں۔ ساتھ ہی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جون کے وسط تک پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔ پابندیاں ختم ہونے کے بعد معمول کے مطابق ویزا کا عمل شروع ہو جائے گا۔











ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ کیلیے کون سی سبزیاں مفید ہیں؟
بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر جسے خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے، اس مرض میں مبتلا افراد کسی بھی وقت خطرناک صورتحال میں فالج کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

اس بیماری میں مبتلا افراد کی غذا بھی مخصوص ہوتی ہے خاص طور پر نمک سے پرہیز کیا جاتا ہے تاہم ایسی خوراک کی کمی نہیں جو منہ کا مزہ بھی برقرار رکھتی ہیں اور بلڈپریشر کو بھی قدرتی طور پر متوازن سطح پر رکھتی ہیں۔

گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 52 فیصد سے زائد لوگ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہیں اور 42 فیصد لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کس خطرناک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔

ویسے تو ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے ادویات کا استعمال ضروری ہے لیکن بہترین اور غذائیت والی خوراک کا استعمال بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ان میں سبزیاں بہت اہم ہیں۔
سبزیاں دل کو فراہم کی جانے والی صحت مند غذا کی ایک اہم بنیاد ہیں، ان میں غذائی اجزاء کی مقدار زیادہ اور سوڈیم کی سطح کم ہوتی ہے۔ ایسی سبزیاں جو پوٹاشیم، میگنیشیم اور نائٹریٹس جیسے اجزا سے بھرپور ہوتی ہیں قدرتی طور پر بلڈ پریشر کو کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ سبزیاں خون کی نالیوں کو آرام دہ بنا کر الیکٹرو لائٹس کو متوازن اور سوزش کو کم کرکے بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں اہم کرادار ادا کرتی ہیں۔

ان سبزیوں میں پالک، چقندر، بروکلی، گاجر، شکر قندی، آلو، ٹماٹر اور سبز پھلیاں شامل ہیں۔ اور اگر سبزیوں سے علاوہ دیگر غذا کی بات کی جائے تو بلڈ پریشر کے مریضوں کیلیے کیلے، دہی، نمک سے پاک گرم مسالے، دار چینی، مچھلی، جو کا دلیہ، لوبیا اور السی کے بیج بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں



*🛑سیف نیوز اُردو*

کیا ہم مشین بن چکے ہیں؟ عامر خاکوانی کا کالم ابتدا ایک کہانی سے کرتے ہیں، وہ بھی فلمی کہانی۔ اس میں اگرچہ وہ نکتہ مو...